’اے این ایف رانا ثناء اللہ کے خلاف کیس بنانے میں ناکام رہا

مسلم لیگ ن کی رہنما عظمیٰ بخاری کا کہنا ہے کہ انسداد منشیات فورس (اے این ایف) رانا ثناء اللہ کے خلاف کیس بنانے میں ناکام رہا۔

رانا ثناءاللہ کے خلاف منشیاف برآمدگی کیس کی سماعت ڈیوٹی جج سینٹرل خالد بشیر کر رہے ہیں۔

رانا ثناءاللہ کی جانب سے ایڈووکیٹ فرہاد علی شاہ دلائل دے رہے ہیں جب کہ عدالت نے دوپہر 12 بجے تک ایم ڈی سیف سٹی کو ریکارڈ سمیت پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔

اس حکومت کو جتنا وقت دیا جائے گا ملک و قوم کا نقصان ہو گا: رانا ثناء

احاطہ عدالت میں مسلم لیگ ن کے رہنما رانا ثنااللہ کا میڈا سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ میرے تمام اکاؤنٹس منجمد کر دئیے گئے ہیں، پارلیمنٹ بلڈنگ میں بطور ایم این اے بھی میرا اکاونٹ فریز کر دیا گیا ہے۔

رانا ثناء اللہ نے کہا کہ اکاؤنٹ منجمند کرنے کا مقصد یہ ہے وکلاء کو فیس نہ دے سکوں اور روز مرہ کے معاملات نہ چلا سکوں۔

انہوں نے کہا کہ بطور ایم این اے میرے اکاؤنٹ میں موجود رقم کو منشیات کی رقم کہا جا رہا ہے، میرے خلاف اگر کوئی ویڈیو تھی تو وہ بھی پیش نہیں کی گئی۔

رہنما ن لیگ نے کہا کہ اس حکومت کو جتنا وقت دیا جائے گا ملک و قوم کا نقصان ہو گا۔

انسداد منشیات کی خصوصی عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا کہ رانا ثنااللہ کیس کی ویڈیو عدالت میں پیش نہیں کی گئی، ایم ڈی سیف سٹیز اتھارٹی کو عدالت نے طلب کیا لیکن وہ نہیں آئے۔

عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا کہ اے این ایف کہتی ہے مرضی ہے وہ آئیں یا نہ آئیں، ایک معمولی بیوروکریٹ بھی عدالت کے حکم پر حاضر نہیں ہوتا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ اے این ایف رانا ثناءاللہ کے خلاف کیس بنانے میں ناکام رہا۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.